Urdu Blogs لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Blogs لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 12 جولائی، 2023

اِنسان خُودکُشی کیوں کرتا ہے؟ اور اِسے کیسے روکا جاسکتا ہے؟

 

خُودکُشی ایک ایسا دِلخراش اور تکلیف دِہ موضوع ہے کہ اس پر قلم اٹھاتے ہوئے بھی دِل افسردہ ہو جاتا ہے۔، لیکن اِس رُجحان کو روکنےاور کم کرنے کیلئے اِسکی وجوہات اور اِسکے سدِباب پرلکھنا اور بات کرنا بھی ضروری ہے۔

دُنیا بھر میں خُودکُشی ایک تشویش اور دردناک مسئلہ ہے، ہر 40 سیکنڈ میں اِسکی وجہ سے کوئی نہ کوئی فرد اپنی زندگی ختم کرلیتا ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مُطابق سال 2019 میں دنیا بھر میں تقریباً 800,000 سے زیادہ لوگوں نے خُودکُشی کی، اور ایک اندازے کے مطابق سال 2020 میں اس کی تعداد1,400,000 تھی۔ یہ 15-29  سال کی عُمر کے لوگوں کے مرنے کی دُوسری بڑی وجہ ہے۔  دُنیا میں ہونے والی خُودکُشیوں میں سے ٪77 کا تعلق غریب اور ترقی پذیر ممالک سے ہے، مگر بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں امیر اور پڑھےلکھے افراد میں بھی اِسکا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں اِسکی شرح %8.9 ہے،  19-2018 میں اس میں کچھ کمی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر اِس میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، جِسکی بُنیادی وجہ سیاسی و مُعاشی عدم اِستحکام کی وجہ سے ہونے والا ڈپریشن اور اِیمان کی کمزوری ہے۔ اِسکے علاوہ مایوسی و نااُمیدی، جِسمانی تشدد، ذہنی و نفسیاتی دباؤ، طویل بیماری و بے بسی، پچھتاوے، بے عزتی اور تنہائی کا احساس بھی اِسکی اہم وجوہات میں شامِل ہیں۔ مردوں میں اِسکا تناسُب عورتوں سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ خُودکُشی کا عمل افراد اور مُعاشرے کو بری طرح مُتاثر کرتا ہے۔ مرنے والا خود تو اِس دُنیا سے چلا جاتا ہے مگر اِسکے اِس منفی فِعل کا اثر سالوں تک اِسکے خاندان پر پڑتا رہتا ہے۔ اِسی لئے دینِ اِسلام میں مایوسی کو گُناہ اور خُود کُشی کو حرام قرار دیا ہے۔

لوگوں میں اِجتماعی اور اِنفرادی سطح پر شعور اور آگاہی پیدا کر کے اس رُجحان کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی شخص میں بہت زیادہ  مایوسی و نااُمیدی دیکھیں یا آپ کا کوئی قریبی دوست یا رشتہ دار اچانک سماجی طور پر خود کو محدود کرلے، لوگوں سے ملنےجُلنے کی بجائے تنہا رہنا شروع کر دے،  اِسکی طبیعت میں بیزاری اور چڑچڑاپن پیدا ہوجائے، اور باتوں میں بے بسی نمایاں ہو توپھر اُس پر طنز و مزاح اور تنقید و نصیحت کرنے کی بجائے اُس کی مدد اور رہنمائی کریں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ پیار اور ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں تاکہ وہ آپ پر اعتماد کریں اور اپنے دل کی بات آپ سے بیان کرسکیں، اور کسی بڑے سانحے سے بچ جائیں۔ اِنھیں قائل کریں کہ نفسیاتی مسائل کیلئے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے میں کوئی شرمندگی اور قباحت نہیں ہے۔ جِسطرح ہم جِسمانی امراض دُور کرنے کیلئے ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں، اِسی طرح نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے نفسیاتی ماہرین سے رابطہ کرنا بھی ایک نارمل عمل ہے۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر بھی اس رُجحان کو روکنے اور کم کرنے کیلئے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ سرکاری اِداروں کو چاہیے کہ اس معاملے میں عوام میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کیلئےایک موثر مُہم کا آغاز کریں، اور اس بارے میں زیادہ سے زیادہ مُستند اَعداد و شُمار اکٹھے اور مُنظّم کریں تاکہ اِنھیں مدِنظر رکھتے ہوئےاِس مسئلے پر ایک موثر اور جامع پالیسی بنائی جاسکے۔

پاکستان میں تقریباً  ٪80  لوگ کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں ،تحقیق کے مطابق صرف لاہور میں ڈیپریشن کی شرح ٪53.4 ہے۔اگر آپکو یا آپکے کسی جاننے والے کو کبھی اِس حوالے سے کوئی مدد یا رہنمائی درکار ہوآپ بلا جھجک کسی بھی وقت www.umang.com.pk  یا  7786264-0311  پر ماہرین سے رابطہ کر سکتے ہیں۔


تحریر: عثمان راجہ

osmanraja1@gmail.com




ہفتہ، 8 جولائی، 2023

کامیاب زندگی کیا ہے؟ اور کیسے گزاری جاسکتی ہے؟



 اکژ جِن لوگوں کی زندگیوں کو ہم میڈیا کے ذریعے  دیکھتے اور بہت کامیاب سمجھتے  ہیں  اصل میں وہ اُتنی کامیاب نہیں ہوتیں ۔ اُن میں سے اکثر لوگ زندگی کے کسی ایک شعبے میں تو بہت کامیاب ہو تے ہیں، لیکن جب ہم اُن کی زندگیوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہےکہ وہ  زندگی کے دوسرے اہم شعبوں  میں  اُتنے کامیاب نہیں، مثلاً کسی نے بہت زیادہ  پیسہ تو کمالیا لیکن صحت کی دولت سے محروم ہو گیا، کوئی  جسمانی طور پر مسٹر یونیورس یا بہت اچھا  ایتھلیٹ تو بن گیا، لیکن کچھ سالوں بعد مالی اور سماجی  مسائل کا شکار  ہو گیا۔  ہمارے ہاں اکژ  فنکاروں اور کھلاڑیوں کو ریٹائرمنٹ اور عروج  کے بعد مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہوئے  دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ  دیگر شعبوں میں بھی بظاہر بہت کامیاب لوگ اکثر  ڈپریشن اور اِنگثایٹی کا شکار ہو کر ذہنی سکون کی تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

     کامیاب زندگی کی عمارت چار اہم ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے،جنہیں اپنانے کے بعد آپ بھی ایک کامیاب اور بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔  اِن میں سے اگر ایک ستون بھی کمزور ہو تو کامیاب زندگی  کی عمارت ڈگمگانے لگتی ہے ۔ 

1.     کامیاب زندگی کا پہلا اور سب سے اہم ستون صحت ہے۔ صحت بھرپور زندگی کی بنیاد ہے،   جب  یہ خراب ہوتی ہےتو یہ ہماری زندگی کے تقریباََ ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے - ہمارے کام کی کارکردگی سے لے کر پیاروں کے ساتھ ہمارے تعلقات، سب  ہماری صحت کے ساتھ جڑے ہیں۔ جب ہم تندُرست ہوتے ہیں تو ہمارے پاس ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر اپنے مقاصد  حاصل کرنے کے لیے توانائی  بڑھ جاتی ہے اور یہ ہماری زندگی کو مزید کامیاب بنا دیتی ہے۔ جسمانی صحت یقیناً اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت بھی اُتنی ہی اہم ہے۔ جب ہم اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھتے ہیں تو ہم زندگی کے چیلنجز کو واضح اور مثبت رویہ کے ساتھ حل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ صحت کا خیال رکھنا زیادہ مشکل یا وقت طلب نہیں ہے، اگر ہم  باقاعدگی سے ورزش، متوازن خوراک، اور ذہنی  تناؤ سے نمٹنے کے کچھ سادہ سے طریقے اپنی روز مرہ زندگی میں شامِل کر لیں تو یہ ہماری صحت کو بہت بہتربنا سکتے ہیں۔اچھی صحت کے بےشمار  فائدے  ہیں، لیکن  سب سے اہم فائدہ ایک خوشگوار اور بھرپور زندگی گزارنے کی صلاحیت ہے۔ سو صحت کو ہمیشہ اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھیں اور پھر دیکھیں کہ یہ آپکی زندگی کو کامیاب بنانے میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے۔  

2.   کامیاب زندگی کی عمارت کا دوسرا اور اہم ستون ہمارےسماجی تعلقات ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان اپنے حلقہِ احباب سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم جسطرح کے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق تقریباََ  6 ماہ بعد ہم بھی شعوری یا لاشعوری طور پر اُنہی جیسا سوچنے اور عمل کرنے لگتے ہیں۔اسلیئے ہمارا دین اسلام بھی ہمیں نیک اور قابل لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ سماجی تعلقات  ہماری مجموعی گروتھ اور کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  جب ہم دوسروں کے ساتھ بامعنی روابط رکھتے ہیں تو ہم خود کو دوسروں سے الگ تھلگ اورکٹا  ہوا محسوس  نہیں کر تے ،  اس سے ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے  ہیں  جو ہماری  پیشہ ورانہ کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کر تے ہیں۔ یہ ہمیں سماجی اور جذباتی مدد فراہم کرتے  ہیں،جو ہمیں زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے درکار  ہوتی ہے۔تعلقات کو برقرار رکھنے اور بنانے کے لیے بھی کوشش ، عزم  اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔  اسکےلئے اپنی زندگی میں لوگوں کے لیے وقت نکالنا،  کھُلے دل اور ایمانداری سے بات چیت کرنا، ہمدردی، سمجھ بوجھ اور برداشت  کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔آج کی تیز رفتار دنیا میں ہم اپنی مصروفیات کی وجہ سے اکثر رشتوں کی اہمیت کو نظر انداز کر جاتے ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دوسروں کے ساتھ ہمارے اچھے  روابط ہی ہماری زندگی کو  خوشگوار اور جینے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر آپکی زندگی میں چند ایسے مخلص اور  مثبت لوگ موجود  ہیں جن کے ساتھ آپ اپنی خوشی اورغمی بانٹ سکتے ہیں اور جو آپکی خوشی میں خوش، اور غمی میں غمگین ہوتے ہیں تو آپ کا  شمار دنیا کہ خوش قسمت ترین انسانوں میں ہوتا ہے۔

 3.   کامیاب زندگی کی عمارت کا تیسرا اور اہم ستون پیسہ ہے۔   کامیاب  زندگی گُزارنے کیلئے  مالی طور پرمستحکم اور  خود مختار ہونا بھی بہت ضروری ہے،  یہ ہمارے بہت سے مقاصد اور خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔  جب ہمارے پاس پیسے کی کمی ہوتی ہے تو یہ مالی تناؤ اور عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے، جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔   پیسے کے ساتھ صحت مند رشتہ رکھنا صرف اسے کمانے اور خرچ کرنے سے زیادہ نہیں ہے۔  یہ پیسے کی قدر اور مقصد کو سمجھنے اور اسے اپنے مقاصد اور اقدار کی حمایت کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں ہے۔  مالی خواندگی اور منصوبہ بندی ترقی کے لیے اہم مہارتیں ہیں، کیونکہ یہ وقت کے ساتھ دولت کمانے، اسے برقرار رکھنے اور مالی آزادی حاصل کرنے میں ہماری مدد کر تیں ہیں۔ پیسہ ہمیں نئی چیزوں کا تجربہ کرنے اور یادیں تخلیق کرنے میں بھی مدد دیتا ہے ۔  یہ نئے مواقعوں کے دروازے کھولتا ہے، جیسے کہ سفر کرنا، کُچھ نیا سیکھنا، اور خود میں سرمایہ کاری کرنا وغیرہ۔  پیسہ سب کچھ نہیں ہے، لیکن یہ ہماری زندگیوں کوآسان اور بہتر بنانے  میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسے سمجھداری سے ان چیزوں پر استعمال کرنا چاہیے جو ہمارےلیےضروری اور اہم ہیں۔ 25 یا 26 سال کی عمر تک آپ کوکم ازکم اس قابل ہو جانا چاہئے کہ آپ اپنی اور اپنی فیملی کی بنیادی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں ۔  


    4.  کامیاب زندگی کا چوتھا اور  اہم ترین ستون اطمینان ِقلب ہے۔   اگر آپ سب کچھ پالینے کے بعد بھی سکونِ قلب کی دولت سے محروم ہیں تو آپ کی کامیابی حقیقی نہیں ہے۔ روحانیت اور باطنی سکون ایک کامیاب اورمکمل زندگی کے ضروری اجزاء ہیں۔  یہ ہمیں اپنی ذات سے  ہٹ کر سوچنے اور مقصدِحیات کو پہچاننے میں  مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ آجکل کی تیز رفتار دنیا میں انسان  ناچاہتے ہوئے بھی روزمرہ کی زندگی کے دباؤ اور تقاضوں میں اُلجھ جاتا ہے اور پھر اپنے آپ کو خود سے اور اپنے اردگرد کی دنیا سے کھویا ہوا اور منقطع محسوس کرتا ہے۔  روحانیت اور اندرونی سکون بہت سے مختلف طریقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، بشمول  عبادات، مراقبہ، ذہن سازی، اور فطرت سے جڑنا وغیرہ۔  یہ  زندگی میں توازن اور تناظر کا احساس حاصل کرنے میں ہماری مدد کر تے ہیں۔ اندرونی امن کے لیے خود کی عکاسی اور خود آگاہی کی  ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے خیالات، احساسات اور اعمال کو سمجھنے کے لیے اور اندرونی تنازعات یا حل نہ ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے وقت نکالنا  بھی ضروری ہے۔ روحانیت اور باطنی سکون ایک کامیاب اور مکمل زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ ہمیں زندگی کے چیلنجوں سے گزرنے اور انکا معنی و مقصد سمجھنے کی طاقت اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

            تحریر: عثمان راجہ                 

osmanraja1@gmail.com              

      


ترقی کے سفر میں تنظیمِ وقت (Time Management) کی اہمیت

  وقت کی رَفتار میں دِن بدن اِضافہ ہو رہا ہے۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتوں کی سی تیزی سے گُزرنے لگے ہیں۔ جو کام پہلے دِنوں یا ہفتوں میں ہوتے ...