جمعہ، 4 اگست، 2023

ترقی کے سفر میں تنظیمِ وقت (Time Management) کی اہمیت


 

وقت کی رَفتار میں دِن بدن اِضافہ ہو رہا ہے۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتوں کی سی تیزی سے گُزرنے لگے ہیں۔ جو کام پہلے دِنوں یا ہفتوں میں ہوتے تھے، اب منٹوں میں ہونے لگے ہیں۔بظاہر سارا دِن مصروف رہنے کے باوجود اکثر بہت سے اہم کام باقی رہ جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم کُچھ قابل اور کامیاب لوگوں کے روزمر  ّ ہ کے معمولات کا جائزہ لیں، تو پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ ایک ہفتے میں اِتنا کام کر لیتے ہیں جتنا اکثر لوگ ایک مہینے میں نہیں کر پاتے۔جبکہ دِن تو سب کیلئے چوبیس گھنٹے کا ہی ہے۔


 اصل میں مسئلہ وقت کی کمی کا نہیں اِسکی مینجمنٹ کا ہے، اور جو لوگ اس مہارت پر عبور حاصل کر لیتے ہیں، وہ کم وقت میں زیادہ کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جس نے اپنے وقت کو منظم کرلیا اِس نے اپنی زندگی کو منظّم کر لیا۔وقت کو منظّم کیے بغیرافراد، اداروں اور قوموں کی ترقی ناممکن ہے۔اگرہم ترقی یافتہ اقوام ،اِداروں یا افراد کاتجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، اور اِسکی بے حد قدر کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے عوام ا لناس کا رویہ اِسکے بلِکُل بَرعکس ہے،اور یہ ہماری اِجتماعی اور اِنفرادی طور پردُنیاسے پیچھے رہ جانے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں وقت کو منظّم کرنے کی مہارت سیکھ لیں، اوراِسکے کچھ اصول اپنا لیں، تویہ ترقی کے راستے پرہمارے بہت مددگار ثابت ہوں گے۔ 

ہمارے ہاں تو وقت کی بے قدری اس حد تک بڑھ چُکی ہے کہ اگراحباب کو کسی تقریب میں مدعو کرنا ہو، توبھی ٹائم ایک دو گھنٹے پہلے کابتانا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر تقریب کا وقت آٹھ بجے ہے تو دعوت نامے پر چھ بجے لکھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ چھ بجے لکھا ہے تو مہمان آٹھ بجے تک آجائیں گے، مگرکمال کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ آٹھ بجے بھی نہیں پہنچتے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس منفی رویے کونارمل سمجھ کر بادی النظر میں تسلیم کیا جاچکا ہے۔ جبکہ تھوڑی سی کوشش کر کے اسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ا ن دِنوں کی بات ہے جب فیض گھرکو کُھلے ابھی ایک ڈیڑھ سال ہوا تھا اور ہم نے نئی نئی میوزک کلاسز شروع کی تھیں۔ہمارے تقریباً ہر پروگرام میں وقت کی پابندی کی جاتی تھی۔ چاہے جتنے بھی لوگ ہال میں موجود ہوں، پروگرام وقت پر شروع اور وقت پر ختم کردیا جاتا تھا۔ شروع میں وقت کی پابندی کے حوالے سے لوگ تھوڑی لاپرواہی کرتے تھے ،مگر آہستہ آہستہ جب لوگوں کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ یہاں وقت پر آنے والوں کی عزت کی جاتی ہے اور دیر سے آنا باعثِ شرمندگی ہے، توزیادہ تر لوگوں نے ہماری تقریبات میں وقت پر آنا شروع کردیاتھا۔ 

دین اسلام میں بھی وقت کو بہت اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک کے قرآنِ مجید میں خود خدا نے وقت اور زمانے کی قسم کھائی ہے۔ ایک حدیث میں حضورﷺ نے وقت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاہے کہ  "اگر قیامت آجائے تو بھی وقت ضائع نہ کریں، بلکہ جلدی سے ایک پودا  زمین میں لگا دیں "۔  اور پھر ایک اور جگہ فرمایا" پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ اپنی جوانی کواپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنے مرض سے پہلے، اپنے مالدار ہونے کو اپنی  محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے"۔ اِسکے علاوہ نمازوں اور روزوں کے اوقات مقرر کر کہ بھی دین اسلام میں وقت کی پابندی، اور اُسے منظّم کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

جہلم کی ایک روحانی شخصیت نے اپنے ایک بیان میں دن کے چوبیس گھنٹوں کوتین حصوں میں تقسیم کرکے اِنکے اِستعمال کو بڑی خوبصورتی سے سمجھایا ہے کہ ایک متوازن دن میں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے سماجی معاملات اور دیگر مشاغل، اور آٹھ گھنٹے آرام کیلئے مختص ہونے چاہیں۔ اِنکےعلاوہ اور بھی بہت سی اہم شخصیات نے وقت کی اہمیت اور اِسے منظّم کرنے کے بارے میں بہت کُچھ فرمایا ہے۔ مثلاً جم روہن کہتے ہیں " ٹائم پیسوں سے زیادہ قیمتی ہے، آپ پیسے تو اور بھی کماسکتے ہیں مگر جو وقت ایک بار گزر گیا اُسے واپس نہیں لاسکتے۔" اِسکے علاوہ ابراہم لنکن کہتے ہیں " اگرآپ مجھے ایک درخت کاٹنے کیلئے چھ گھنٹے دیں تومیں چار گھنٹے آری تیز کرنے میں لگاؤں گا"۔ 

وقت کو منظّم کرنے کیلئے پہلے اپنے مختصر اور طویل مدتی مقاصد کا تعین، اور اہداف کو طے کریں۔اگرمقصد بڑا اور منزل دُور ہے تو پھرمنصوبہ بندی بھی اِسے مدِنظر رکھتے ہوئے کرنی پڑے گی۔مثلاً اگر آپ لاہور سے اسلام آباد جارہے ہیں تو اُسکے لیے الگ قسم کے وسائل اور منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور اگر آپ لاہور سے سعودیہ جارہے ہیں، تو اُسکے لئے مختلف قسم کے وسائل اور منصوبہ بندی درکار ہو گی۔



روزمرہ کی زندگی میں بھی اپنے وقت کو منظّم کرنے کیلئے سب سے پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ضروری ہے۔ اپنے کاموں کو نہایت اہم، اہم، اور غیراہم کی اقسام میں تقسیم کریں۔ نہایت اہم کاموں کو سب سے پہلے ختم کریں اور پھر اِسی ترتیب سے باقی کاموں کو بھی نمٹالیں۔ ہر کام کے حساب سے اُسکے لئے مخصوص وقت متعین کریں۔ ایک وقت میں ایک ہی کام کریں، مگر کُچھ کام ایسے ہیں جووقت بچانے کیلئے ایک وقت میں اکٹھے کیے جاسکتے ہیں، وہ ضرور کریں۔مثلاً گاڑی چلاتے ہوئے کسی آڈیو کتاب یا لیکچر کا سنناوغیرہ۔ اِسکے علاوہ جو کام آپ اپنے عِلاوہ پیسے دے کر بہتر انداز میں کسی اور سے  کرواسکتے ہیں، اُنھیں دوسروں کو منتقل کریں، اور اُس وقت میں خود کوئی دوسرا اہم کام کر لیں۔ آجکل موبائل کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہم روز مرہ کے بہت سے کام بھول جاتے ہیں، اُنکے لیے ٹائم ٹرکیکنگ، ری مائنڈرز،نوٹ پیڈ، اور ٹوڈو لِسٹ جیسی اپلیکیشنز کا استعمال نہایت مفید ہے۔

سرکاری و نجی تقریبات میں بھی اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اُسکی شرکت اُتنی دیر سے ہوتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جناب نے اپنے بڑے مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کراس تقریب میں شرکت کرکے میزبان پربہت بڑا احسان کیا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی تقریب میں مقررہ وقت پر پہنچ جائے، تو وہ خود کو اکیلا پا کر شرمندہ سا محسوس کرتا ہے،اوراکثر لوگ اسکے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ کتنا فارغ آدمی ہے، اِتنی جلدی پہنچ گیا۔

اصل میں تو وقت ہی ہماری زندگی ہے، جو انہی گھنٹوں، مہینوں اور سالوں پر مشتمل ہے۔انتظار کی حالت میں اسی وقت کی رفتار بہت سُست ہو جاتی ہے اور یہی اگر ہم کوئی پسندیدہ فلم دیکھنے میں مصروف ہوں تو دو تین گھنٹوں کے گزرنے کا پتا بھی نہیں چلتا۔یعنی وقت کم یا زیادہ نہیں ہوتا،یہ ہمارا ذہن ہے جو ہمیں اِسکے تیز یا سست ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اِس وقت  کوفضول کاموں میں ضائع کریں یا اسکی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اِسے اپنے اور معاشرے کی بہتری کیلئے استعمال کریں۔

 اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو مِن حَیثُ القَوم اس منفی رویے کی نفی کرنی ہوگی۔اسکے لئے نہ تو کوئی بجٹ اور نہ ہی کوئی منظوری درکار ہے۔ بس تمام لیڈروں، افسروں، اُستادوں اور والدین کو وقت کی اہمیت کو سمجھ کر اسکی پابندی کی عادت اپنا نا ہوگی، اور رول ماڈلز کے طور پر سامنے آ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ تاکہ آنے والی نوجوان نسل انکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وقت کو منظم کرنے اوراسکی پابندی کرنے کی عادت اپنائے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

 

منگل، 25 جولائی، 2023

سوشل مِیڈیا کےبچوں اور نوجوانوں پر اَثرات۔



کوئی بھی چیز اچھی یا بُری نہیں ہوتی ، یہ اُسکا اِستعمال ہے جو اُسے اچھا یا بُرا بناتا ہے۔آج کےاِس  ڈیجیٹل  دَور میں سوشل میڈیا   کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،لیکن اِسکے بہت سے مُثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اِسکے بہت سے منفی پہلو بھی ہیں۔ کہتے ہیں زندگی میں مفت کُچھ نہیں ملتا ،  سوشل میڈیا کی  دُنیا میں جو مواد ہمیں بظاہر مُفت دیکھنےاور پڑھنے کو مِلتا ہے، اُسکی قیمت ہم اپنا وقت دے کر چُکاتے ہیں۔غیر ضروری اور غیر مُصدقہ معلومات اکثر  ہمارے ذہن کی توجہ اصَل مقصد  سے  ہٹا کراُسےکسی اور طرف اُلجھا دیتی ہیں۔  اِس لئے ہمیں صرف وہی مُثبت مواد دیکھنااور پڑھنا چاہیے جو ہمارے لیےضروری اور مُفید ہو ۔ آج سوشل میڈیا نے زیادہ تر لوگوں کی زندگیوں کو کسی اژدھےکی طرح دبوچ رکھا ہے اور  وہ  چاہ  کر بھی اِسکی گرفت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پارہے،  اور یہ بِنا   احساس دِلائےاُنکے  وقت کوتیزی سے نِگل رہا ہے، کیونکہ اِسکے پیچھے جوایلگورِتھم  اورمصنوعی ذہانت کام کررہی ہے  وہ ہمارے ڈیجیٹل  اور سوشل رویے کومدِنظر رکھے ہوئے ہے،  اِس سے مقابلہ کرنا واقعی ایک مُشِکل چیلنج ہے۔سوشل میڈیا کے  سُودمند اِستعمال کے حوالے سے جو تربیت اور آگاہی  ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ہونی چاہیے،  وہ ابھی  بہت کم ہے۔

رِیسرچ  کے مُطابق اِس وقت دُنیا میں تقریباً 4.95 ارب انٹرنیٹ صارفین ہیں ، جو کُل آبادی کا  ٪67.2 ہیں، 7.9 ارب موبائل فون کنکشنز ہیں ، جو کُل آبادی کا  ٪ 107.3 ہیں، اور1.7 ارب گھروں میں ٹیلی ویژن ہیں ،  جو کُل آبادی کا  ٪24.7 ہیں۔  دُنیا میں ہر انسان روزانہ تقریباً 2 گھنٹے 27 منٹ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے،  اور پاکستان میں اِسکی شرح  تقریباً 2  گھنٹے45  منٹ ہے۔ 16سے24سال کےنوجوانوں میں اِسکے استعمال کا تناسُب سَب سے زیادہ  تقریباً 3 گھنٹے 12 منٹ ہے۔ دُنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک،  یوٹیوب اور واٹس ایپ  ہیں۔

ڈیجیٹل پاکستان کا نعرہ لگایا جا چُکا ہے اور G5کی آمد آمد ہے،  ایک اندازے کے مُطابق پاکستان میں تقریباً 8.735 کروڑ صارفین انٹرنیٹ استعمال کررہےہیں ،  جو کُل آبادی کا  ٪36.7 ہیں، تقریباً  19.18 کروڑموبائل فون کنکشنز  ہیں ،  جو کُل آبادی کا  ٪80.5  ہیں اور 10.57 کروڑ گھروں میں ٹیلی ویژن  دیکھا جاتا ہے ،  جو کُل آبادی کا  ٪46.8 ہے۔




 پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی ایک رپورٹ کے مطابق،  پاکستانیوں کے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 21.71 کروڑ پروفائلز ہیں، جن میں سے 7.1 کروڑ فعال سوشل میڈیا صارفین ہیں۔ YouTube پاکستان میں 7.17 کروڑ صارفین کے ساتھ سرفہرست جبکہ Facebook 5.75 کروڑ صارفین کے ساتھ دوسرےاورSnackVideo  2 کروڑ پاکستانی صارفین کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔اسکے  علاوہ Snapchat  1.88کروڑ،  TikTok 1.83 کروڑ،  اِنسٹاگرام کے 1.56 کروڑ، LinkedIn 76 لاکھ اور Twitter 34 لاکھ پاکستانی اکاؤنٹس رکھے ہوئے  ہیں۔

سماجی ابلاغ (Social Media) کے فوائد:

سوشل میڈیا کی بدولت ہم دوستوں اور رشتےداروں سے رابطے میں رہنے کے علاوہ  مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنےوالے لوگوں سے دوستی کرکے اُنکی ثقافت  اور نُقطہ نظر کے بارے میں جان سکتے ہیں،نئی چیزوں کے بارےمیں سیکھ سکتےہیں۔ اُن لوگوں اور تنظیموں کو فالوکر سکتے ہیں جن میں ہم دِلچسپی رکھتےہیں۔ سوشل میڈیا پر نِصابی تعلیم کے بارےمیں بھی رہنمائی  حاصل کی جاسکتی ہے،اپنی رائے کا دُرست اور مُثبت اِظہار کرتے ہوئے مسائل کو اُجاگر  کیا جاسکتا ہے،ظلم و نااِنصافی کے خلاف آوازکو   صاحبِ اقتدار تک  پہنچایا جا سکتا ہے اور اپنے ہنر اور کاروبار کی تشہیر کرکے  اِسے بڑھایا  اور اس سے کمایا بھی جا سکتا ہے۔

سماجی ابلاغ (Social Media) کے نقصانات:

سوشل میڈیا اور سکرین ٹائم نشہ آوربھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور ہمارا اسکرین ٹائم بہت زیادہ ہے،  تو یہ ہمارےکام ،  تعلیم اور سماجی زندگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اسکرین ٹائم وہ  وقت ہوتا ہے جو ہم کسی  ڈیجیٹل آلے کو استعمال کرتےہوئے صَرف کرتے  ہیں، مثلاً موبائل فونز، ٹیبلیٹس، سمارٹ ٹی وی، لیپ ٹاپ، اور کمپیوٹر وغیرہ۔

جو بچے اور نوجوان اسکرین دیکھنے میں بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ  بہت سے ذہنی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں مثلاً نیند اور بھوک میں  کمی،  ذہنی دباؤ ، بےچینی ، توجہ مرکوز کرنے کی صلا حیت میں کمی ، پڑھائی اور دوسری مُثبت  سرگرمیوں میں عدم دِلچسپی ،  جِسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے وزن کا بڑھ جانا،  سماجی تعلقات کا کمزور ہو جانا وغیرہ ۔ زیادہ اسکرین دیکھنے سے اِن کےسامنے  نامناسب مواد کے آنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، اس میں وہ مواد شامل ہے جو پُرتشدد، جنسی یا دوسری صورت میں نقصان دہ ہوتا ہے۔ اِس قسم کے مواد کی نمائش بچوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اِسکے علاوہ سائبر دھونس  (cyberbullying)،جھوٹی خبریں  اور جعلی اکاونٹس، ہیکنگ اور رازداری  بھی ایسے سنگین مسائل ہیں جو متاثرین پر تباہ کن اثرات  ڈال سکتے ہیں۔اگر آپ اِسے سمجھداری سے استعمال کریں تو سوشل میڈیا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر آپ محتاط نہیں ہیں، تو یہ مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تجاویز:

ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم صارفین خاص طور پربچوں کے لیےبہت نقصان دہ   ہے۔  والدین  اور اساتذہ کے لیے  ضروری ہے کہ وہ اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے ممکنہ خطرات سے آگاہ رہیں اور  بچوں اور نوجوانوں کو اِن خطرات سے بچاؤ  کی تعلیم و تربیت دینے کے لیے اِقدامات کرتےرہیں، مثلاً اسکرین کے وقت کی حد مقرر کرکے اِنکے اسکرین کے استعمال کی نگرانی کریں ۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹRICS کی سفارش ہے کہ 2 سال سے کم عمر کے بچوں کااسکرین ٹائم بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے، اور 2 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کااسکرین ٹائم 2 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

والدین کو اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی نگرانی میں ان کے دوستوں کی فہرست، ان کی پوسٹس ،  ان کے تبصرے، اورغیر ضروری اطلاعات (notifications)  چیک کرنا شامل ہے۔اسکے علاوہ اِنھیں اپنے بچوں سے سوشل میڈیا کے risks کے بارے میں بات کرنی چاہیے، جیسے کہ cyberbullying، sexting اور نامناسب مواد کا سامنے آنا۔ انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ سوشل میڈیا کا استعمال محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے کیسے کریں۔ بچوں کا انٹرنیٹ کے استعمال کیلئے روزانہ مخصوص وقت تعین کریں ،اِنکے ساتھ مل کر اِن کاپسندیدہ انٹرنیٹ مواد دیکھیں ،  ان کے سوالات کا جواب دیں، ساتھ وقت گزاریں  اور گیمز کھیلیں تاکہ وہ اِکٹھے وقت گزارنے کا لطف اٹھا سکیں۔ 

اِن تجاویز پر عمل کر کےوالدین بچوں کو سوشل میڈیا کے بےجااور غلط استعمال سے روکنے  میں مدد کر سکتے ہیں۔ انتہائی اہم یہ ہے کہ والدین خود بھی بچوں کو مثبت راہ دکھاتے ہوئے اپنی مثال قائم کریں اور ان کے لئے ایک محبت بھرا امن بخش گھریلو ماحول فراہم کریں۔ اگراساتذہ اور  والدین خود اِن تجاویز پر عمل نہیں کریں گے تو  بھلا بچے اور نوجوان اُنکی نصیحت پر کیوں کان دھریں گے۔                                                                                                                                                                              

 اگر آپ اِس موضوع پر مزید معلومات حاصِل کرنا چاہتے ہیں، توایک ڈاکومنٹری فلم جِسکا نام The Social Dilemma  ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں۔

تحریر: عثمان راجہ

osmanraja1@gmail.com

 

بدھ، 12 جولائی، 2023

اِنسان خُودکُشی کیوں کرتا ہے؟ اور اِسے کیسے روکا جاسکتا ہے؟

 

خُودکُشی ایک ایسا دِلخراش اور تکلیف دِہ موضوع ہے کہ اس پر قلم اٹھاتے ہوئے بھی دِل افسردہ ہو جاتا ہے۔، لیکن اِس رُجحان کو روکنےاور کم کرنے کیلئے اِسکی وجوہات اور اِسکے سدِباب پرلکھنا اور بات کرنا بھی ضروری ہے۔

دُنیا بھر میں خُودکُشی ایک تشویش اور دردناک مسئلہ ہے، ہر 40 سیکنڈ میں اِسکی وجہ سے کوئی نہ کوئی فرد اپنی زندگی ختم کرلیتا ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مُطابق سال 2019 میں دنیا بھر میں تقریباً 800,000 سے زیادہ لوگوں نے خُودکُشی کی، اور ایک اندازے کے مطابق سال 2020 میں اس کی تعداد1,400,000 تھی۔ یہ 15-29  سال کی عُمر کے لوگوں کے مرنے کی دُوسری بڑی وجہ ہے۔  دُنیا میں ہونے والی خُودکُشیوں میں سے ٪77 کا تعلق غریب اور ترقی پذیر ممالک سے ہے، مگر بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں امیر اور پڑھےلکھے افراد میں بھی اِسکا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں اِسکی شرح %8.9 ہے،  19-2018 میں اس میں کچھ کمی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر اِس میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، جِسکی بُنیادی وجہ سیاسی و مُعاشی عدم اِستحکام کی وجہ سے ہونے والا ڈپریشن اور اِیمان کی کمزوری ہے۔ اِسکے علاوہ مایوسی و نااُمیدی، جِسمانی تشدد، ذہنی و نفسیاتی دباؤ، طویل بیماری و بے بسی، پچھتاوے، بے عزتی اور تنہائی کا احساس بھی اِسکی اہم وجوہات میں شامِل ہیں۔ مردوں میں اِسکا تناسُب عورتوں سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ خُودکُشی کا عمل افراد اور مُعاشرے کو بری طرح مُتاثر کرتا ہے۔ مرنے والا خود تو اِس دُنیا سے چلا جاتا ہے مگر اِسکے اِس منفی فِعل کا اثر سالوں تک اِسکے خاندان پر پڑتا رہتا ہے۔ اِسی لئے دینِ اِسلام میں مایوسی کو گُناہ اور خُود کُشی کو حرام قرار دیا ہے۔

لوگوں میں اِجتماعی اور اِنفرادی سطح پر شعور اور آگاہی پیدا کر کے اس رُجحان کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی شخص میں بہت زیادہ  مایوسی و نااُمیدی دیکھیں یا آپ کا کوئی قریبی دوست یا رشتہ دار اچانک سماجی طور پر خود کو محدود کرلے، لوگوں سے ملنےجُلنے کی بجائے تنہا رہنا شروع کر دے،  اِسکی طبیعت میں بیزاری اور چڑچڑاپن پیدا ہوجائے، اور باتوں میں بے بسی نمایاں ہو توپھر اُس پر طنز و مزاح اور تنقید و نصیحت کرنے کی بجائے اُس کی مدد اور رہنمائی کریں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ پیار اور ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں تاکہ وہ آپ پر اعتماد کریں اور اپنے دل کی بات آپ سے بیان کرسکیں، اور کسی بڑے سانحے سے بچ جائیں۔ اِنھیں قائل کریں کہ نفسیاتی مسائل کیلئے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے میں کوئی شرمندگی اور قباحت نہیں ہے۔ جِسطرح ہم جِسمانی امراض دُور کرنے کیلئے ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں، اِسی طرح نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے نفسیاتی ماہرین سے رابطہ کرنا بھی ایک نارمل عمل ہے۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر بھی اس رُجحان کو روکنے اور کم کرنے کیلئے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ سرکاری اِداروں کو چاہیے کہ اس معاملے میں عوام میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کیلئےایک موثر مُہم کا آغاز کریں، اور اس بارے میں زیادہ سے زیادہ مُستند اَعداد و شُمار اکٹھے اور مُنظّم کریں تاکہ اِنھیں مدِنظر رکھتے ہوئےاِس مسئلے پر ایک موثر اور جامع پالیسی بنائی جاسکے۔

پاکستان میں تقریباً  ٪80  لوگ کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں ،تحقیق کے مطابق صرف لاہور میں ڈیپریشن کی شرح ٪53.4 ہے۔اگر آپکو یا آپکے کسی جاننے والے کو کبھی اِس حوالے سے کوئی مدد یا رہنمائی درکار ہوآپ بلا جھجک کسی بھی وقت www.umang.com.pk  یا  7786264-0311  پر ماہرین سے رابطہ کر سکتے ہیں۔


تحریر: عثمان راجہ

osmanraja1@gmail.com




ہفتہ، 8 جولائی، 2023

کامیاب زندگی کیا ہے؟ اور کیسے گزاری جاسکتی ہے؟



 اکژ جِن لوگوں کی زندگیوں کو ہم میڈیا کے ذریعے  دیکھتے اور بہت کامیاب سمجھتے  ہیں  اصل میں وہ اُتنی کامیاب نہیں ہوتیں ۔ اُن میں سے اکثر لوگ زندگی کے کسی ایک شعبے میں تو بہت کامیاب ہو تے ہیں، لیکن جب ہم اُن کی زندگیوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہےکہ وہ  زندگی کے دوسرے اہم شعبوں  میں  اُتنے کامیاب نہیں، مثلاً کسی نے بہت زیادہ  پیسہ تو کمالیا لیکن صحت کی دولت سے محروم ہو گیا، کوئی  جسمانی طور پر مسٹر یونیورس یا بہت اچھا  ایتھلیٹ تو بن گیا، لیکن کچھ سالوں بعد مالی اور سماجی  مسائل کا شکار  ہو گیا۔  ہمارے ہاں اکژ  فنکاروں اور کھلاڑیوں کو ریٹائرمنٹ اور عروج  کے بعد مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہوئے  دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ  دیگر شعبوں میں بھی بظاہر بہت کامیاب لوگ اکثر  ڈپریشن اور اِنگثایٹی کا شکار ہو کر ذہنی سکون کی تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

     کامیاب زندگی کی عمارت چار اہم ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے،جنہیں اپنانے کے بعد آپ بھی ایک کامیاب اور بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔  اِن میں سے اگر ایک ستون بھی کمزور ہو تو کامیاب زندگی  کی عمارت ڈگمگانے لگتی ہے ۔ 

1.     کامیاب زندگی کا پہلا اور سب سے اہم ستون صحت ہے۔ صحت بھرپور زندگی کی بنیاد ہے،   جب  یہ خراب ہوتی ہےتو یہ ہماری زندگی کے تقریباََ ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے - ہمارے کام کی کارکردگی سے لے کر پیاروں کے ساتھ ہمارے تعلقات، سب  ہماری صحت کے ساتھ جڑے ہیں۔ جب ہم تندُرست ہوتے ہیں تو ہمارے پاس ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر اپنے مقاصد  حاصل کرنے کے لیے توانائی  بڑھ جاتی ہے اور یہ ہماری زندگی کو مزید کامیاب بنا دیتی ہے۔ جسمانی صحت یقیناً اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت بھی اُتنی ہی اہم ہے۔ جب ہم اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھتے ہیں تو ہم زندگی کے چیلنجز کو واضح اور مثبت رویہ کے ساتھ حل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ صحت کا خیال رکھنا زیادہ مشکل یا وقت طلب نہیں ہے، اگر ہم  باقاعدگی سے ورزش، متوازن خوراک، اور ذہنی  تناؤ سے نمٹنے کے کچھ سادہ سے طریقے اپنی روز مرہ زندگی میں شامِل کر لیں تو یہ ہماری صحت کو بہت بہتربنا سکتے ہیں۔اچھی صحت کے بےشمار  فائدے  ہیں، لیکن  سب سے اہم فائدہ ایک خوشگوار اور بھرپور زندگی گزارنے کی صلاحیت ہے۔ سو صحت کو ہمیشہ اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھیں اور پھر دیکھیں کہ یہ آپکی زندگی کو کامیاب بنانے میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے۔  

2.   کامیاب زندگی کی عمارت کا دوسرا اور اہم ستون ہمارےسماجی تعلقات ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان اپنے حلقہِ احباب سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم جسطرح کے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق تقریباََ  6 ماہ بعد ہم بھی شعوری یا لاشعوری طور پر اُنہی جیسا سوچنے اور عمل کرنے لگتے ہیں۔اسلیئے ہمارا دین اسلام بھی ہمیں نیک اور قابل لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ سماجی تعلقات  ہماری مجموعی گروتھ اور کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  جب ہم دوسروں کے ساتھ بامعنی روابط رکھتے ہیں تو ہم خود کو دوسروں سے الگ تھلگ اورکٹا  ہوا محسوس  نہیں کر تے ،  اس سے ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے  ہیں  جو ہماری  پیشہ ورانہ کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کر تے ہیں۔ یہ ہمیں سماجی اور جذباتی مدد فراہم کرتے  ہیں،جو ہمیں زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے درکار  ہوتی ہے۔تعلقات کو برقرار رکھنے اور بنانے کے لیے بھی کوشش ، عزم  اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔  اسکےلئے اپنی زندگی میں لوگوں کے لیے وقت نکالنا،  کھُلے دل اور ایمانداری سے بات چیت کرنا، ہمدردی، سمجھ بوجھ اور برداشت  کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔آج کی تیز رفتار دنیا میں ہم اپنی مصروفیات کی وجہ سے اکثر رشتوں کی اہمیت کو نظر انداز کر جاتے ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دوسروں کے ساتھ ہمارے اچھے  روابط ہی ہماری زندگی کو  خوشگوار اور جینے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر آپکی زندگی میں چند ایسے مخلص اور  مثبت لوگ موجود  ہیں جن کے ساتھ آپ اپنی خوشی اورغمی بانٹ سکتے ہیں اور جو آپکی خوشی میں خوش، اور غمی میں غمگین ہوتے ہیں تو آپ کا  شمار دنیا کہ خوش قسمت ترین انسانوں میں ہوتا ہے۔

 3.   کامیاب زندگی کی عمارت کا تیسرا اور اہم ستون پیسہ ہے۔   کامیاب  زندگی گُزارنے کیلئے  مالی طور پرمستحکم اور  خود مختار ہونا بھی بہت ضروری ہے،  یہ ہمارے بہت سے مقاصد اور خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔  جب ہمارے پاس پیسے کی کمی ہوتی ہے تو یہ مالی تناؤ اور عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے، جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔   پیسے کے ساتھ صحت مند رشتہ رکھنا صرف اسے کمانے اور خرچ کرنے سے زیادہ نہیں ہے۔  یہ پیسے کی قدر اور مقصد کو سمجھنے اور اسے اپنے مقاصد اور اقدار کی حمایت کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں ہے۔  مالی خواندگی اور منصوبہ بندی ترقی کے لیے اہم مہارتیں ہیں، کیونکہ یہ وقت کے ساتھ دولت کمانے، اسے برقرار رکھنے اور مالی آزادی حاصل کرنے میں ہماری مدد کر تیں ہیں۔ پیسہ ہمیں نئی چیزوں کا تجربہ کرنے اور یادیں تخلیق کرنے میں بھی مدد دیتا ہے ۔  یہ نئے مواقعوں کے دروازے کھولتا ہے، جیسے کہ سفر کرنا، کُچھ نیا سیکھنا، اور خود میں سرمایہ کاری کرنا وغیرہ۔  پیسہ سب کچھ نہیں ہے، لیکن یہ ہماری زندگیوں کوآسان اور بہتر بنانے  میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسے سمجھداری سے ان چیزوں پر استعمال کرنا چاہیے جو ہمارےلیےضروری اور اہم ہیں۔ 25 یا 26 سال کی عمر تک آپ کوکم ازکم اس قابل ہو جانا چاہئے کہ آپ اپنی اور اپنی فیملی کی بنیادی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں ۔  


    4.  کامیاب زندگی کا چوتھا اور  اہم ترین ستون اطمینان ِقلب ہے۔   اگر آپ سب کچھ پالینے کے بعد بھی سکونِ قلب کی دولت سے محروم ہیں تو آپ کی کامیابی حقیقی نہیں ہے۔ روحانیت اور باطنی سکون ایک کامیاب اورمکمل زندگی کے ضروری اجزاء ہیں۔  یہ ہمیں اپنی ذات سے  ہٹ کر سوچنے اور مقصدِحیات کو پہچاننے میں  مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ آجکل کی تیز رفتار دنیا میں انسان  ناچاہتے ہوئے بھی روزمرہ کی زندگی کے دباؤ اور تقاضوں میں اُلجھ جاتا ہے اور پھر اپنے آپ کو خود سے اور اپنے اردگرد کی دنیا سے کھویا ہوا اور منقطع محسوس کرتا ہے۔  روحانیت اور اندرونی سکون بہت سے مختلف طریقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، بشمول  عبادات، مراقبہ، ذہن سازی، اور فطرت سے جڑنا وغیرہ۔  یہ  زندگی میں توازن اور تناظر کا احساس حاصل کرنے میں ہماری مدد کر تے ہیں۔ اندرونی امن کے لیے خود کی عکاسی اور خود آگاہی کی  ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے خیالات، احساسات اور اعمال کو سمجھنے کے لیے اور اندرونی تنازعات یا حل نہ ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے وقت نکالنا  بھی ضروری ہے۔ روحانیت اور باطنی سکون ایک کامیاب اور مکمل زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ ہمیں زندگی کے چیلنجوں سے گزرنے اور انکا معنی و مقصد سمجھنے کی طاقت اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

            تحریر: عثمان راجہ                 

osmanraja1@gmail.com              

      


ترقی کے سفر میں تنظیمِ وقت (Time Management) کی اہمیت

  وقت کی رَفتار میں دِن بدن اِضافہ ہو رہا ہے۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتوں کی سی تیزی سے گُزرنے لگے ہیں۔ جو کام پہلے دِنوں یا ہفتوں میں ہوتے ...