Mental Health لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Mental Health لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 25 جولائی، 2023

سوشل مِیڈیا کےبچوں اور نوجوانوں پر اَثرات۔



کوئی بھی چیز اچھی یا بُری نہیں ہوتی ، یہ اُسکا اِستعمال ہے جو اُسے اچھا یا بُرا بناتا ہے۔آج کےاِس  ڈیجیٹل  دَور میں سوشل میڈیا   کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،لیکن اِسکے بہت سے مُثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اِسکے بہت سے منفی پہلو بھی ہیں۔ کہتے ہیں زندگی میں مفت کُچھ نہیں ملتا ،  سوشل میڈیا کی  دُنیا میں جو مواد ہمیں بظاہر مُفت دیکھنےاور پڑھنے کو مِلتا ہے، اُسکی قیمت ہم اپنا وقت دے کر چُکاتے ہیں۔غیر ضروری اور غیر مُصدقہ معلومات اکثر  ہمارے ذہن کی توجہ اصَل مقصد  سے  ہٹا کراُسےکسی اور طرف اُلجھا دیتی ہیں۔  اِس لئے ہمیں صرف وہی مُثبت مواد دیکھنااور پڑھنا چاہیے جو ہمارے لیےضروری اور مُفید ہو ۔ آج سوشل میڈیا نے زیادہ تر لوگوں کی زندگیوں کو کسی اژدھےکی طرح دبوچ رکھا ہے اور  وہ  چاہ  کر بھی اِسکی گرفت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پارہے،  اور یہ بِنا   احساس دِلائےاُنکے  وقت کوتیزی سے نِگل رہا ہے، کیونکہ اِسکے پیچھے جوایلگورِتھم  اورمصنوعی ذہانت کام کررہی ہے  وہ ہمارے ڈیجیٹل  اور سوشل رویے کومدِنظر رکھے ہوئے ہے،  اِس سے مقابلہ کرنا واقعی ایک مُشِکل چیلنج ہے۔سوشل میڈیا کے  سُودمند اِستعمال کے حوالے سے جو تربیت اور آگاہی  ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ہونی چاہیے،  وہ ابھی  بہت کم ہے۔

رِیسرچ  کے مُطابق اِس وقت دُنیا میں تقریباً 4.95 ارب انٹرنیٹ صارفین ہیں ، جو کُل آبادی کا  ٪67.2 ہیں، 7.9 ارب موبائل فون کنکشنز ہیں ، جو کُل آبادی کا  ٪ 107.3 ہیں، اور1.7 ارب گھروں میں ٹیلی ویژن ہیں ،  جو کُل آبادی کا  ٪24.7 ہیں۔  دُنیا میں ہر انسان روزانہ تقریباً 2 گھنٹے 27 منٹ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے،  اور پاکستان میں اِسکی شرح  تقریباً 2  گھنٹے45  منٹ ہے۔ 16سے24سال کےنوجوانوں میں اِسکے استعمال کا تناسُب سَب سے زیادہ  تقریباً 3 گھنٹے 12 منٹ ہے۔ دُنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک،  یوٹیوب اور واٹس ایپ  ہیں۔

ڈیجیٹل پاکستان کا نعرہ لگایا جا چُکا ہے اور G5کی آمد آمد ہے،  ایک اندازے کے مُطابق پاکستان میں تقریباً 8.735 کروڑ صارفین انٹرنیٹ استعمال کررہےہیں ،  جو کُل آبادی کا  ٪36.7 ہیں، تقریباً  19.18 کروڑموبائل فون کنکشنز  ہیں ،  جو کُل آبادی کا  ٪80.5  ہیں اور 10.57 کروڑ گھروں میں ٹیلی ویژن  دیکھا جاتا ہے ،  جو کُل آبادی کا  ٪46.8 ہے۔




 پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی ایک رپورٹ کے مطابق،  پاکستانیوں کے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 21.71 کروڑ پروفائلز ہیں، جن میں سے 7.1 کروڑ فعال سوشل میڈیا صارفین ہیں۔ YouTube پاکستان میں 7.17 کروڑ صارفین کے ساتھ سرفہرست جبکہ Facebook 5.75 کروڑ صارفین کے ساتھ دوسرےاورSnackVideo  2 کروڑ پاکستانی صارفین کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔اسکے  علاوہ Snapchat  1.88کروڑ،  TikTok 1.83 کروڑ،  اِنسٹاگرام کے 1.56 کروڑ، LinkedIn 76 لاکھ اور Twitter 34 لاکھ پاکستانی اکاؤنٹس رکھے ہوئے  ہیں۔

سماجی ابلاغ (Social Media) کے فوائد:

سوشل میڈیا کی بدولت ہم دوستوں اور رشتےداروں سے رابطے میں رہنے کے علاوہ  مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنےوالے لوگوں سے دوستی کرکے اُنکی ثقافت  اور نُقطہ نظر کے بارے میں جان سکتے ہیں،نئی چیزوں کے بارےمیں سیکھ سکتےہیں۔ اُن لوگوں اور تنظیموں کو فالوکر سکتے ہیں جن میں ہم دِلچسپی رکھتےہیں۔ سوشل میڈیا پر نِصابی تعلیم کے بارےمیں بھی رہنمائی  حاصل کی جاسکتی ہے،اپنی رائے کا دُرست اور مُثبت اِظہار کرتے ہوئے مسائل کو اُجاگر  کیا جاسکتا ہے،ظلم و نااِنصافی کے خلاف آوازکو   صاحبِ اقتدار تک  پہنچایا جا سکتا ہے اور اپنے ہنر اور کاروبار کی تشہیر کرکے  اِسے بڑھایا  اور اس سے کمایا بھی جا سکتا ہے۔

سماجی ابلاغ (Social Media) کے نقصانات:

سوشل میڈیا اور سکرین ٹائم نشہ آوربھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور ہمارا اسکرین ٹائم بہت زیادہ ہے،  تو یہ ہمارےکام ،  تعلیم اور سماجی زندگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اسکرین ٹائم وہ  وقت ہوتا ہے جو ہم کسی  ڈیجیٹل آلے کو استعمال کرتےہوئے صَرف کرتے  ہیں، مثلاً موبائل فونز، ٹیبلیٹس، سمارٹ ٹی وی، لیپ ٹاپ، اور کمپیوٹر وغیرہ۔

جو بچے اور نوجوان اسکرین دیکھنے میں بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ  بہت سے ذہنی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں مثلاً نیند اور بھوک میں  کمی،  ذہنی دباؤ ، بےچینی ، توجہ مرکوز کرنے کی صلا حیت میں کمی ، پڑھائی اور دوسری مُثبت  سرگرمیوں میں عدم دِلچسپی ،  جِسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے وزن کا بڑھ جانا،  سماجی تعلقات کا کمزور ہو جانا وغیرہ ۔ زیادہ اسکرین دیکھنے سے اِن کےسامنے  نامناسب مواد کے آنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، اس میں وہ مواد شامل ہے جو پُرتشدد، جنسی یا دوسری صورت میں نقصان دہ ہوتا ہے۔ اِس قسم کے مواد کی نمائش بچوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اِسکے علاوہ سائبر دھونس  (cyberbullying)،جھوٹی خبریں  اور جعلی اکاونٹس، ہیکنگ اور رازداری  بھی ایسے سنگین مسائل ہیں جو متاثرین پر تباہ کن اثرات  ڈال سکتے ہیں۔اگر آپ اِسے سمجھداری سے استعمال کریں تو سوشل میڈیا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر آپ محتاط نہیں ہیں، تو یہ مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تجاویز:

ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم صارفین خاص طور پربچوں کے لیےبہت نقصان دہ   ہے۔  والدین  اور اساتذہ کے لیے  ضروری ہے کہ وہ اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے ممکنہ خطرات سے آگاہ رہیں اور  بچوں اور نوجوانوں کو اِن خطرات سے بچاؤ  کی تعلیم و تربیت دینے کے لیے اِقدامات کرتےرہیں، مثلاً اسکرین کے وقت کی حد مقرر کرکے اِنکے اسکرین کے استعمال کی نگرانی کریں ۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹRICS کی سفارش ہے کہ 2 سال سے کم عمر کے بچوں کااسکرین ٹائم بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے، اور 2 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کااسکرین ٹائم 2 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

والدین کو اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی نگرانی میں ان کے دوستوں کی فہرست، ان کی پوسٹس ،  ان کے تبصرے، اورغیر ضروری اطلاعات (notifications)  چیک کرنا شامل ہے۔اسکے علاوہ اِنھیں اپنے بچوں سے سوشل میڈیا کے risks کے بارے میں بات کرنی چاہیے، جیسے کہ cyberbullying، sexting اور نامناسب مواد کا سامنے آنا۔ انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ سوشل میڈیا کا استعمال محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے کیسے کریں۔ بچوں کا انٹرنیٹ کے استعمال کیلئے روزانہ مخصوص وقت تعین کریں ،اِنکے ساتھ مل کر اِن کاپسندیدہ انٹرنیٹ مواد دیکھیں ،  ان کے سوالات کا جواب دیں، ساتھ وقت گزاریں  اور گیمز کھیلیں تاکہ وہ اِکٹھے وقت گزارنے کا لطف اٹھا سکیں۔ 

اِن تجاویز پر عمل کر کےوالدین بچوں کو سوشل میڈیا کے بےجااور غلط استعمال سے روکنے  میں مدد کر سکتے ہیں۔ انتہائی اہم یہ ہے کہ والدین خود بھی بچوں کو مثبت راہ دکھاتے ہوئے اپنی مثال قائم کریں اور ان کے لئے ایک محبت بھرا امن بخش گھریلو ماحول فراہم کریں۔ اگراساتذہ اور  والدین خود اِن تجاویز پر عمل نہیں کریں گے تو  بھلا بچے اور نوجوان اُنکی نصیحت پر کیوں کان دھریں گے۔                                                                                                                                                                              

 اگر آپ اِس موضوع پر مزید معلومات حاصِل کرنا چاہتے ہیں، توایک ڈاکومنٹری فلم جِسکا نام The Social Dilemma  ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں۔

تحریر: عثمان راجہ

osmanraja1@gmail.com

 

بدھ، 12 جولائی، 2023

اِنسان خُودکُشی کیوں کرتا ہے؟ اور اِسے کیسے روکا جاسکتا ہے؟

 

خُودکُشی ایک ایسا دِلخراش اور تکلیف دِہ موضوع ہے کہ اس پر قلم اٹھاتے ہوئے بھی دِل افسردہ ہو جاتا ہے۔، لیکن اِس رُجحان کو روکنےاور کم کرنے کیلئے اِسکی وجوہات اور اِسکے سدِباب پرلکھنا اور بات کرنا بھی ضروری ہے۔

دُنیا بھر میں خُودکُشی ایک تشویش اور دردناک مسئلہ ہے، ہر 40 سیکنڈ میں اِسکی وجہ سے کوئی نہ کوئی فرد اپنی زندگی ختم کرلیتا ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مُطابق سال 2019 میں دنیا بھر میں تقریباً 800,000 سے زیادہ لوگوں نے خُودکُشی کی، اور ایک اندازے کے مطابق سال 2020 میں اس کی تعداد1,400,000 تھی۔ یہ 15-29  سال کی عُمر کے لوگوں کے مرنے کی دُوسری بڑی وجہ ہے۔  دُنیا میں ہونے والی خُودکُشیوں میں سے ٪77 کا تعلق غریب اور ترقی پذیر ممالک سے ہے، مگر بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں امیر اور پڑھےلکھے افراد میں بھی اِسکا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں اِسکی شرح %8.9 ہے،  19-2018 میں اس میں کچھ کمی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر اِس میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، جِسکی بُنیادی وجہ سیاسی و مُعاشی عدم اِستحکام کی وجہ سے ہونے والا ڈپریشن اور اِیمان کی کمزوری ہے۔ اِسکے علاوہ مایوسی و نااُمیدی، جِسمانی تشدد، ذہنی و نفسیاتی دباؤ، طویل بیماری و بے بسی، پچھتاوے، بے عزتی اور تنہائی کا احساس بھی اِسکی اہم وجوہات میں شامِل ہیں۔ مردوں میں اِسکا تناسُب عورتوں سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ خُودکُشی کا عمل افراد اور مُعاشرے کو بری طرح مُتاثر کرتا ہے۔ مرنے والا خود تو اِس دُنیا سے چلا جاتا ہے مگر اِسکے اِس منفی فِعل کا اثر سالوں تک اِسکے خاندان پر پڑتا رہتا ہے۔ اِسی لئے دینِ اِسلام میں مایوسی کو گُناہ اور خُود کُشی کو حرام قرار دیا ہے۔

لوگوں میں اِجتماعی اور اِنفرادی سطح پر شعور اور آگاہی پیدا کر کے اس رُجحان کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی شخص میں بہت زیادہ  مایوسی و نااُمیدی دیکھیں یا آپ کا کوئی قریبی دوست یا رشتہ دار اچانک سماجی طور پر خود کو محدود کرلے، لوگوں سے ملنےجُلنے کی بجائے تنہا رہنا شروع کر دے،  اِسکی طبیعت میں بیزاری اور چڑچڑاپن پیدا ہوجائے، اور باتوں میں بے بسی نمایاں ہو توپھر اُس پر طنز و مزاح اور تنقید و نصیحت کرنے کی بجائے اُس کی مدد اور رہنمائی کریں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ پیار اور ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں تاکہ وہ آپ پر اعتماد کریں اور اپنے دل کی بات آپ سے بیان کرسکیں، اور کسی بڑے سانحے سے بچ جائیں۔ اِنھیں قائل کریں کہ نفسیاتی مسائل کیلئے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے میں کوئی شرمندگی اور قباحت نہیں ہے۔ جِسطرح ہم جِسمانی امراض دُور کرنے کیلئے ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں، اِسی طرح نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے نفسیاتی ماہرین سے رابطہ کرنا بھی ایک نارمل عمل ہے۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر بھی اس رُجحان کو روکنے اور کم کرنے کیلئے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ سرکاری اِداروں کو چاہیے کہ اس معاملے میں عوام میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کیلئےایک موثر مُہم کا آغاز کریں، اور اس بارے میں زیادہ سے زیادہ مُستند اَعداد و شُمار اکٹھے اور مُنظّم کریں تاکہ اِنھیں مدِنظر رکھتے ہوئےاِس مسئلے پر ایک موثر اور جامع پالیسی بنائی جاسکے۔

پاکستان میں تقریباً  ٪80  لوگ کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں ،تحقیق کے مطابق صرف لاہور میں ڈیپریشن کی شرح ٪53.4 ہے۔اگر آپکو یا آپکے کسی جاننے والے کو کبھی اِس حوالے سے کوئی مدد یا رہنمائی درکار ہوآپ بلا جھجک کسی بھی وقت www.umang.com.pk  یا  7786264-0311  پر ماہرین سے رابطہ کر سکتے ہیں۔


تحریر: عثمان راجہ

osmanraja1@gmail.com




ترقی کے سفر میں تنظیمِ وقت (Time Management) کی اہمیت

  وقت کی رَفتار میں دِن بدن اِضافہ ہو رہا ہے۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتوں کی سی تیزی سے گُزرنے لگے ہیں۔ جو کام پہلے دِنوں یا ہفتوں میں ہوتے ...