Productivity Tips لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Productivity Tips لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 4 اگست، 2023

ترقی کے سفر میں تنظیمِ وقت (Time Management) کی اہمیت


 

وقت کی رَفتار میں دِن بدن اِضافہ ہو رہا ہے۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتوں کی سی تیزی سے گُزرنے لگے ہیں۔ جو کام پہلے دِنوں یا ہفتوں میں ہوتے تھے، اب منٹوں میں ہونے لگے ہیں۔بظاہر سارا دِن مصروف رہنے کے باوجود اکثر بہت سے اہم کام باقی رہ جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم کُچھ قابل اور کامیاب لوگوں کے روزمر  ّ ہ کے معمولات کا جائزہ لیں، تو پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ ایک ہفتے میں اِتنا کام کر لیتے ہیں جتنا اکثر لوگ ایک مہینے میں نہیں کر پاتے۔جبکہ دِن تو سب کیلئے چوبیس گھنٹے کا ہی ہے۔


 اصل میں مسئلہ وقت کی کمی کا نہیں اِسکی مینجمنٹ کا ہے، اور جو لوگ اس مہارت پر عبور حاصل کر لیتے ہیں، وہ کم وقت میں زیادہ کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جس نے اپنے وقت کو منظم کرلیا اِس نے اپنی زندگی کو منظّم کر لیا۔وقت کو منظّم کیے بغیرافراد، اداروں اور قوموں کی ترقی ناممکن ہے۔اگرہم ترقی یافتہ اقوام ،اِداروں یا افراد کاتجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، اور اِسکی بے حد قدر کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے عوام ا لناس کا رویہ اِسکے بلِکُل بَرعکس ہے،اور یہ ہماری اِجتماعی اور اِنفرادی طور پردُنیاسے پیچھے رہ جانے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں وقت کو منظّم کرنے کی مہارت سیکھ لیں، اوراِسکے کچھ اصول اپنا لیں، تویہ ترقی کے راستے پرہمارے بہت مددگار ثابت ہوں گے۔ 

ہمارے ہاں تو وقت کی بے قدری اس حد تک بڑھ چُکی ہے کہ اگراحباب کو کسی تقریب میں مدعو کرنا ہو، توبھی ٹائم ایک دو گھنٹے پہلے کابتانا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر تقریب کا وقت آٹھ بجے ہے تو دعوت نامے پر چھ بجے لکھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ چھ بجے لکھا ہے تو مہمان آٹھ بجے تک آجائیں گے، مگرکمال کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ آٹھ بجے بھی نہیں پہنچتے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس منفی رویے کونارمل سمجھ کر بادی النظر میں تسلیم کیا جاچکا ہے۔ جبکہ تھوڑی سی کوشش کر کے اسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ا ن دِنوں کی بات ہے جب فیض گھرکو کُھلے ابھی ایک ڈیڑھ سال ہوا تھا اور ہم نے نئی نئی میوزک کلاسز شروع کی تھیں۔ہمارے تقریباً ہر پروگرام میں وقت کی پابندی کی جاتی تھی۔ چاہے جتنے بھی لوگ ہال میں موجود ہوں، پروگرام وقت پر شروع اور وقت پر ختم کردیا جاتا تھا۔ شروع میں وقت کی پابندی کے حوالے سے لوگ تھوڑی لاپرواہی کرتے تھے ،مگر آہستہ آہستہ جب لوگوں کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ یہاں وقت پر آنے والوں کی عزت کی جاتی ہے اور دیر سے آنا باعثِ شرمندگی ہے، توزیادہ تر لوگوں نے ہماری تقریبات میں وقت پر آنا شروع کردیاتھا۔ 

دین اسلام میں بھی وقت کو بہت اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک کے قرآنِ مجید میں خود خدا نے وقت اور زمانے کی قسم کھائی ہے۔ ایک حدیث میں حضورﷺ نے وقت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاہے کہ  "اگر قیامت آجائے تو بھی وقت ضائع نہ کریں، بلکہ جلدی سے ایک پودا  زمین میں لگا دیں "۔  اور پھر ایک اور جگہ فرمایا" پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ اپنی جوانی کواپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنے مرض سے پہلے، اپنے مالدار ہونے کو اپنی  محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے"۔ اِسکے علاوہ نمازوں اور روزوں کے اوقات مقرر کر کہ بھی دین اسلام میں وقت کی پابندی، اور اُسے منظّم کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

جہلم کی ایک روحانی شخصیت نے اپنے ایک بیان میں دن کے چوبیس گھنٹوں کوتین حصوں میں تقسیم کرکے اِنکے اِستعمال کو بڑی خوبصورتی سے سمجھایا ہے کہ ایک متوازن دن میں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے سماجی معاملات اور دیگر مشاغل، اور آٹھ گھنٹے آرام کیلئے مختص ہونے چاہیں۔ اِنکےعلاوہ اور بھی بہت سی اہم شخصیات نے وقت کی اہمیت اور اِسے منظّم کرنے کے بارے میں بہت کُچھ فرمایا ہے۔ مثلاً جم روہن کہتے ہیں " ٹائم پیسوں سے زیادہ قیمتی ہے، آپ پیسے تو اور بھی کماسکتے ہیں مگر جو وقت ایک بار گزر گیا اُسے واپس نہیں لاسکتے۔" اِسکے علاوہ ابراہم لنکن کہتے ہیں " اگرآپ مجھے ایک درخت کاٹنے کیلئے چھ گھنٹے دیں تومیں چار گھنٹے آری تیز کرنے میں لگاؤں گا"۔ 

وقت کو منظّم کرنے کیلئے پہلے اپنے مختصر اور طویل مدتی مقاصد کا تعین، اور اہداف کو طے کریں۔اگرمقصد بڑا اور منزل دُور ہے تو پھرمنصوبہ بندی بھی اِسے مدِنظر رکھتے ہوئے کرنی پڑے گی۔مثلاً اگر آپ لاہور سے اسلام آباد جارہے ہیں تو اُسکے لیے الگ قسم کے وسائل اور منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور اگر آپ لاہور سے سعودیہ جارہے ہیں، تو اُسکے لئے مختلف قسم کے وسائل اور منصوبہ بندی درکار ہو گی۔



روزمرہ کی زندگی میں بھی اپنے وقت کو منظّم کرنے کیلئے سب سے پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ضروری ہے۔ اپنے کاموں کو نہایت اہم، اہم، اور غیراہم کی اقسام میں تقسیم کریں۔ نہایت اہم کاموں کو سب سے پہلے ختم کریں اور پھر اِسی ترتیب سے باقی کاموں کو بھی نمٹالیں۔ ہر کام کے حساب سے اُسکے لئے مخصوص وقت متعین کریں۔ ایک وقت میں ایک ہی کام کریں، مگر کُچھ کام ایسے ہیں جووقت بچانے کیلئے ایک وقت میں اکٹھے کیے جاسکتے ہیں، وہ ضرور کریں۔مثلاً گاڑی چلاتے ہوئے کسی آڈیو کتاب یا لیکچر کا سنناوغیرہ۔ اِسکے علاوہ جو کام آپ اپنے عِلاوہ پیسے دے کر بہتر انداز میں کسی اور سے  کرواسکتے ہیں، اُنھیں دوسروں کو منتقل کریں، اور اُس وقت میں خود کوئی دوسرا اہم کام کر لیں۔ آجکل موبائل کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہم روز مرہ کے بہت سے کام بھول جاتے ہیں، اُنکے لیے ٹائم ٹرکیکنگ، ری مائنڈرز،نوٹ پیڈ، اور ٹوڈو لِسٹ جیسی اپلیکیشنز کا استعمال نہایت مفید ہے۔

سرکاری و نجی تقریبات میں بھی اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اُسکی شرکت اُتنی دیر سے ہوتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جناب نے اپنے بڑے مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کراس تقریب میں شرکت کرکے میزبان پربہت بڑا احسان کیا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی تقریب میں مقررہ وقت پر پہنچ جائے، تو وہ خود کو اکیلا پا کر شرمندہ سا محسوس کرتا ہے،اوراکثر لوگ اسکے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ کتنا فارغ آدمی ہے، اِتنی جلدی پہنچ گیا۔

اصل میں تو وقت ہی ہماری زندگی ہے، جو انہی گھنٹوں، مہینوں اور سالوں پر مشتمل ہے۔انتظار کی حالت میں اسی وقت کی رفتار بہت سُست ہو جاتی ہے اور یہی اگر ہم کوئی پسندیدہ فلم دیکھنے میں مصروف ہوں تو دو تین گھنٹوں کے گزرنے کا پتا بھی نہیں چلتا۔یعنی وقت کم یا زیادہ نہیں ہوتا،یہ ہمارا ذہن ہے جو ہمیں اِسکے تیز یا سست ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اِس وقت  کوفضول کاموں میں ضائع کریں یا اسکی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اِسے اپنے اور معاشرے کی بہتری کیلئے استعمال کریں۔

 اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو مِن حَیثُ القَوم اس منفی رویے کی نفی کرنی ہوگی۔اسکے لئے نہ تو کوئی بجٹ اور نہ ہی کوئی منظوری درکار ہے۔ بس تمام لیڈروں، افسروں، اُستادوں اور والدین کو وقت کی اہمیت کو سمجھ کر اسکی پابندی کی عادت اپنا نا ہوگی، اور رول ماڈلز کے طور پر سامنے آ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ تاکہ آنے والی نوجوان نسل انکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وقت کو منظم کرنے اوراسکی پابندی کرنے کی عادت اپنائے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

 

ترقی کے سفر میں تنظیمِ وقت (Time Management) کی اہمیت

  وقت کی رَفتار میں دِن بدن اِضافہ ہو رہا ہے۔ سال مہینوں اور مہینے ہفتوں کی سی تیزی سے گُزرنے لگے ہیں۔ جو کام پہلے دِنوں یا ہفتوں میں ہوتے ...